اسلام آباد : بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سردار سرفراز ڈوگر پر شدید تنقید کرتے ہوئے عدالتی نظام سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ انصاف فراہم نہیں کرسکتی تو غریب قوم اپنے ٹیکس کے پیسوں سے ججز کو تنخواہیں کیوں دے؟ انہوں نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے سربراہ کو عوام کی خدمت کے لیے تنخواہ ملتی ہے، کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کے سامنے ’’ہتھیار ڈال دیے ہیں‘‘۔ علیمہ خان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے عدالتی نظام میں نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
علیمہ خان نے 26ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسی ترمیم کے نتیجے میں جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس بنے جبکہ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ منتقل کرکے چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جسٹس ڈوگر پہلے لاہور ہائیکورٹ میں 15ویں نمبر پر تھے اور ان کے بقول وہاں سے چیف جسٹس بننے کا امکان نہیں تھا۔ علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت میں تاخیر کی جا رہی ہے اور کہا کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ سے متعلق مقدمات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔
علیمہ خان نے مزید دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل میں بعض مقدمات کی سماعت کے دوران عمران خان کو سزائیں سنائی گئیں، تاہم ان مقدمات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اوپن کورٹ میں لانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں زیر سماعت تین قیدیوں کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس ڈوگر نے اس معاملے کو جلد آگے بڑھایا، جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میں تاخیر کی گئی۔
علیمہ خان نے جسٹس علی باقر نجفی پر بھی تنقید کی اور نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے سابق معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کے نجی اسپتال میں علاج سے متعلق موجودہ عدالتی کارروائی پر سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس سردار سرفراز ڈوگر جیسے کردار تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، اس لیے پاکستانی عوام کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ ان کے بقول ’’اب انصاف سڑکوں پر ملے گا‘‘ اور انہوں نے عوام سے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنے کی اپیل کی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عمران خان کی Shifa International Hospital منتقلی سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں موجود مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ 16 ستمبر کو اس معاملے سے متعلق کارروائی دوبارہ عدالت کے سامنے آئی۔
Lahore 23°C
Karachi 29°C


