اسلام آباد : سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو فوری طور پر طلب کرلیا۔
اٹارنی جنرل کی آمد تک سماعت میں وقفہ کردیا گیا، جس کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل مختصر وقفے کے بعد عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے بعد ازاں اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا، جس پر سماعت دوبارہ مؤخر کردی گئی۔ اٹارنی جنرل کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی ۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں؟ رانا اسد نے جواب دیا کہ جی، اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175 ای کے تحت وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کیس میں پہلا سوال دائرہ اختیار کا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ وفاقی آئینی عدالت کا حکم ماننے کی پابند ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنا ہوگا کہ ریکارڈ کہاں سے منگوایا جا سکتا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ عدالت آئین کی منشا سمجھنا چاہتی ہے اورعدلیہ کے درمیان باہمی احترام کی قائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوالات کا منفی مطلب نہ لیا جائے، یہ صرف سمجھنے کے لیے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار آئین میں واضح ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آئینی عدالت کے حکم میں لکھا ہے کہ وہ تعین کریں گے کہ بنیادی حقوق کے کیسز کون سن سکتا ہے، لیکن بنیادی حقوق کا معاملہ تو ہر کیس میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری کیس میں سامنے آتا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے، جبکہ آئین کی تشریح کے علاوہ دیگر تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وفاقی آئینی عدالت مقدمہ بھی اپنے پاس منگوا سکتی ہے؟ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ سے مقدمہ لیا جا سکتا ہے؟
دورانِ سماعت جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حکم سے متعلق بھی استفسار کیا کہ ہمارا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم فیلڈ میں ہے، آپ اس پر کیا کہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی، وہ فیلڈ میں ہی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، مگر کوئی سرکاری افسر پیش نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اعتماد و روابط کا شدید فقدان چل رہا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا افسران کو ایک موقع دیا جائے، ممکن ہے وہ سمجھے ہوں کہ آج سماعت ہی نہیں ہوگی۔
جسٹس شاہد وحید نے ایک بار پھر ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
بعد ازاں اٹارنی جنرل نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی، جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔
Lahore 23°C
Karachi 29°C


