زکوٰۃ کیلکولیٹر 2026
نقدی، سونا، چاندی، سٹاکس اور کاروباری اثاثوں پر مکمل زکوٰۃ کا حساب — آج کی لائیو قیمتوں سے
اہم نوٹ: یہ کیلکولیٹر عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ زکوٰۃ کا حساب آپ کے مکتبِ فکر اور مخصوص حالات کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ حتمی فیصلے کے لیے اپنے عالم دین یا مفتی سے مشورہ کریں۔ نصاب کی حد چاندی کے نصاب (52.5 تولے) پر رکھی گئی ہے جو اکثر علماء کی رائے ہے — اس سے زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں۔ حساب آج کی لائیو مارکیٹ قیمتوں پر ہے۔ مکان، ذاتی استعمال کی گاڑی، اور پہنے جانے والے زیورات (حنفی مکتبِ فکر کے سوا) عام طور پر زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔
زکوٰۃ کیلکولیٹر — پاکستان 2026
بی خبر پاکستان کا مکمل زکوٰۃ کیلکولیٹر آپ کی تمام اثاثوں — نقدی، بینک بیلنس، سونا، چاندی، سٹاکس، کاروباری مال اور وصول شدنی رقم — پر زکوٰۃ کا حساب لگاتا ہے اور واجب الادا قرضے منہا کرتا ہے۔ سونے اور چاندی کی قیمتیں خودکار طور پر آج کی لائیو مارکیٹ ریٹ سے آتی ہیں جو APGJSA اور SBP سے تصدیق شدہ ہیں۔
زکوٰۃ کیا ہے
زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ ہر بالغ مسلمان پر واجب ہے جس کے پاس نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال ایک مکمل قمری سال (حولان الحول) تک موجود رہے۔ زکوٰۃ کی شرح 2.5% (چالیسواں حصہ) ہے جو خالص قابل زکوٰۃ مال پر لاگو ہوتی ہے۔
نصاب کی دو حدیں
نصاب کی دو حدیں ہیں: سونے کا نصاب (7.5 تولے / 87.48 گرام) اور چاندی کا نصاب (52.5 تولے / 612.36 گرام)۔ اکثر علماء نقدی اور ملی جلی دولت کے لیے چاندی کا نصاب استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں کیونکہ یہ کم ہے اور زیادہ لوگوں کو زکوٰۃ ادا کرنے کا موقع دیتا ہے۔
عام سوالات
نصاب سونے کا استعمال کریں یا چاندی کا؟
اکثر علماء نقدی اور ملی جلی دولت کے لیے چاندی کا نصاب تجویز کرتے ہیں کیونکہ یہ کم ہے اور زیادہ لوگ زکوٰۃ ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کا مکتبِ فکر سونے کا نصاب استعمال کرتا ہے تو اپنے عالم سے رجوع کریں۔
کیا پہنے ہوئے زیورات پر زکوٰۃ ہے؟
حنفی مکتبِ فکر کے مطابق پہنے ہوئے زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ شافعی، مالکی اور حنبلی مکاتب میں عام طور پر پہنے جانے والے زیورات مستثنیٰ ہیں۔ اپنے عالم سے مشورہ کریں۔
کیا مکان اور گاڑی پر زکوٰۃ ہے؟
نہیں۔ ذاتی استعمال کا مکان، گاڑی، فرنیچر اور کپڑے زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ البتہ اگر کوئی جائیداد کرائے یا تجارت کے لیے ہو تو اس کی قیمت زکوٰۃ میں شامل ہوگی۔
حولان الحول (ایک سال) کا کیا مطلب ہے؟
آپ کا مال نصاب سے زیادہ ایک مکمل قمری سال (تقریباً 354 دن) تک رہنا چاہیے۔ سال کی شروعات اور اختتام دونوں وقت مال نصاب سے زیادہ ہونا ضروری ہے — درمیان میں کمی ہو تو اکثر علماء کے نزدیک حساب جاری رہتا ہے۔
Muhammad Awais Rashid, ACMA
Lahore 23°C
Karachi 29°C