**نوجوانوں کے لیے آئی ٹی شعبے میں روزگار کے مواقع، حکومت کی متعدد تربیتی اسکیمیں**

اسلام آباد: وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے ذریعے نوجوانوں کی روزگار کی صلاحیت میں اضافے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے متعدد تربیتی اور روزگار پر مبنی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں۔

قومی اسمبلی میں رکنِ اسمبلی محترمہ شاہدہ رحمانی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ حکومت نوجوانوں، آئی ٹی گریجویٹس اور نئے آئی ٹی پروفیشنلز کی مہارتوں میں اضافے کے لیے مختلف پروگرامز پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

تحریری جواب کے مطابق وزیراعظم کے مختلف اقدامات کے تحت آئی ٹی اسٹارٹ اپس، آئی ٹی گریجویٹس اور نوجوانوں کی روزگار کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے انٹرن شپ، پیشہ ورانہ سرٹیفیکیشن، آئی ٹی بوٹ کیمپس اور سافٹ ویئر اسکلز کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

حکومت کے مطابق نیشنل سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت خصوصی مہارتوں میں اضافے کے پروگرامز اور سیمی کنڈکٹر تعلیم و تحقیق کے ذریعے ماہر انسانی وسائل تیار کیے جا رہے ہیں۔

جواب میں مزید بتایا گیا کہ انٹرن شپ، بین الاقوامی سرٹیفیکیشن، صنعت کی زیرِ سرپرستی تربیت اور انڈسٹری۔اکیڈمیا روابط کو مضبوط بنانے کے پروگرامز کے ذریعے پاکستان کے آئی ٹی ایکو سسٹم کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں نوجوانوں کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزارت کے مطابق سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن کی مہارتوں کے پائلٹ پروجیکٹ کے تحت گریجویٹس کو سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن اور ویریفیکیشن کے شعبوں میں خصوصی تربیت فراہم کی گئی، جس کا مقصد انہیں عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت میں کیریئر کے لیے تیار کرنا ہے۔

تحریری جواب میں بتایا گیا کہ سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن کی مہارتوں کا یہ منصوبہ 2025 میں تیار کیا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے یہ اقدامات پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھانے، انسانی وسائل کی ترقی اور آئی ٹی برآمدات کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔