امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے سے تیل کی پیداوار و ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 75 سینٹ یعنی 0.8 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 95.40 ڈالر تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی خام تیل WTI کی قیمت بھی 44 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے کے بعد 90.66 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ گزشتہ روز کی نمایاں تیزی کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں فی بیرل 4 ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے میں حالات معمول پر آنے کی توقعات کو متاثر کیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی پیداوار، برآمدات اور اہم بحری راستوں کے ذریعے ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی بڑے تنازع کے عالمی تیل مارکیٹ پر فوری اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ، عالمی مارکیٹ میں تیل مزید مہنگا
Lahore 23°C
Karachi 29°C