کراچی: کسان اتحاد نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں 25 ستمبر کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ اور سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپر نے کہا کہ کسانوں کو گندم، پانی، مہنگی زرعی لاگت اور ایندھن سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ گندم کی نئی فصل کی بوائی کا وقت قریب ہے، تاہم کئی صوبوں میں اب تک خریداری پالیسی واضح نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق مقامی کسان کو پیداواری لاگت کے مقابلے میں کم قیمت ملنے کے باعث گندم کی کاشت متاثر ہوئی اور ملک کو گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو ڈیزل پر فیول ریلیف دیا جائے، کھاد اور دیگر زرعی اجناس پر سبسڈی فراہم کی جائے اور گندم کی مناسب قیمت مقرر کی جائے۔
کسان اتحاد نے گنے کی آئندہ فصل کے لیے کم از کم سپورٹ پرائس 650 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے اور کرشنگ سیزن نومبر میں شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شوگر ملوں کے سامنے بھی احتجاج کیا جائے گا۔
کسان رہنماؤں نے افغانستان سے پیاز اور ٹماٹر سمیت زرعی اجناس کی غیر قانونی آمد روکنے، پانی کی کمی کا مسئلہ حل کرنے اور کسانوں کو معیاری بیج فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کو ان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی کسان تنظیموں سے مشاورت جاری ہے، مطالبات پورے نہ ہوئے تو 25 ستمبر کو تمام کسان تنظیمیں اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کریں گی۔
کسان اتحاد کا 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان
Lahore 23°C
Karachi 29°C