واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے ڈیموکریٹس نے 241 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی 149 نشستیں جیت سکی۔ ایوان نمائندگان میں سادہ اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
سینیٹ کے انتخابی نتائج میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل رہی۔ پارٹی نے مزید 20 نشستیں جیت کر اپنی مجموعی تعداد 54 تک پہنچا دی، جبکہ ریپبلکن پارٹی کو 13 نشستیں ملیں اور اس کی مجموعی نشستیں 44 ہوگئیں۔ سینیٹ میں اکثریت کے لیے 100 میں سے 51 نشستیں ضروری ہیں۔

انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ وہ نتائج قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کی راہ بھی نکل سکتی ہے۔
ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ پیپر پر ان کا اپنا نام موجود نہ ہونے سے پارٹی کی انتخابی کارکردگی متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق اگر وہ خود بھی انتخابی میدان میں ہوتے تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔
امریکی صدر نے ان ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے فیصلے کا بھی دفاع کیا جو سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ان امیدواروں کی حمایت کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔

انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اسے دانش مندانہ اقدام کہا۔
دوسری جانب انتخابی نتائج کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ کامیاب اور ناکام امیدواروں کی انتخابی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے سیاسی مبصر کے کردار میں بھی سامنے آنے کا عندیہ دیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس پر ’’ویٹو‘‘ کا لفظ درج تھا۔ اس اقدام کے ذریعے انہوں نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں قانون سازی کی کوشش کریں گے تو وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ناکامی کے باوجود ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دو سال کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اپنے کیے گئے اقدامات پر کوئی پچھتاوا نہیں۔