اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریوں کو بیرونِ ملک سفر سے روکنے، پاسپورٹ رولز 2021 اور پروویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ (PNIL) سمیت مختلف سفری پابندیوں کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواست پر وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے مفادِ عامہ کی تنظیم جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر آئینی درخواست (W.P. No. 5720 of 2026) پر 27 اکتوبر 2026 کو تحریری حکم جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ محمد اظہر صدیق عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست میں پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 22(2)(b) کے دوسرے حصے کی قانونی حیثیت کو پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A، 15 اور 25 کی روشنی میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ سرکاری اداروں یا ایجنسیوں کی سفارش پر شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل کرنے کے طریقۂ کار کا قانونی اور آئینی جائزہ ضروری ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درست پاسپورٹ، ویزا اور کنفرم ٹکٹ رکھنے کے باوجود بعض پاکستانی شہریوں کو پیشگی نوٹس یا تحریری وجوہات فراہم کیے بغیر بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سفر سے روک دیا جاتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس صورتِ حال سے شہریوں کو روزگار، تعلیم، علاج اور حج و عمرہ سمیت دیگر مذہبی مقاصد کے لیے سفر میں مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پٹیشن میں پی این آئی ایل، بلیک لسٹ اور اسٹاپ لسٹ سمیت ان فہرستوں کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کیا گیا ہے جن کے استعمال کو درخواست گزار نے واضح قانونی بنیاد کے بغیر شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وزارتِ داخلہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نادرا کو ایک مربوط ڈیجیٹل پورٹل قائم کرنے کی ہدایت کی جائے، جہاں شہری بیرونِ ملک روانگی سے قبل اپنی سفری حیثیت معلوم کر سکیں۔ مجوزہ نظام کو ’’پاک ٹریول اسٹیٹس‘‘ پورٹل کا نام دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں موجود اندراجات کا جائزہ لینے، مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر آف لوڈ کیے گئے شہریوں کے لیے ہرجانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی سے متعلق قانونی طریقۂ کار وضع کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد وزارتِ داخلہ، امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، ایف آئی اے، نادرا اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ اور پیرا وار جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وفاق کی جانب سے نوٹس وصول کیا۔
چونکہ درخواست میں وفاقی قواعد کی آئینی و قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے، اس لیے عدالت نے ضابطۂ دیوانی کے آرڈر 27-A کے تحت اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت نے حکمِ امتناع اور عبوری ریلیف سے متعلق متفرق درخواست (C.M. No. 02/26) پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت دسمبر 2026 کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔